یُوحنّا 13:9, 14, 15, 16, 17, 18, 19, 20, 21, 22, 23, 24, 25, 26, 27, 28, 29, 30, 31, 32, 33, 34, 35, 36, 37, 38, 39, 40, 41
یُوحنّا 13:9 UCV
لوگ اُس آدمی کو جو پہلے اَندھا تھا فریسیوں کے پاس لایٔے۔
یُوحنّا 14:9 UCV
جِس دِن یِسوعؔ نے مٹّی سان کر اَندھے کی آنکھیں کھولی تھیں وہ سَبت کا دِن تھا۔
یُوحنّا 15:9 UCV
اِس لیٔے فریسیوں نے بھی اُس سے پُوچھا کہ تُجھے بینائی کیسے مِلی؟ اُس نے جَواب دیا، ”یِسوعؔ نے مٹّی سان کر میری آنکھوں پر لگائی، اَور مَیں نے اُنہیں دھویا، اَور اَب مَیں ںبینا ہو گیا ہُوں۔“
یُوحنّا 16:9 UCV
فریسیوں میں سے بعض کہنے لگے، ”یہ آدمی خُدا کی طرف سے نہیں کیونکہ وہ سَبت کے دِن کا اِحترام نہیں کرتا۔“ بعض کہنے لگے، ”کویٔی گُنہگار آدمی اَیسے معجزے کس طرح دِکھا سَکتا ہے؟“ پس اُن میں اِختلاف پیدا ہو گیا۔
یُوحنّا 17:9 UCV
آخِرکار وہ اَندھے آدمی کی طرف مُتوجّہ ہُوئے اَور پُوچھنے لگے کہ جِس آدمی نے تیری آنکھیں کھولی ہیں اُس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے؟ اُس نے جَواب دیا، ”وہ ضروُر کویٔی نبی ہے۔“
یُوحنّا 18:9 UCV
یہُودیوں کو ابھی بھی یقین نہ آیا کہ وہ پہلے اَندھا تھا اَور بینا ہو گیا ہے۔ پس اُنہُوں نے اُس کے والدین کو بُلا بھیجا۔
یُوحنّا 19:9 UCV
تَب اُنہُوں نے اُن سے پُوچھا، ”کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟ جِس کے بارے میں تُم کہتے ہو کہ وہ اَندھا پیدا ہُوا تھا؟ اَب وہ کیسے بینا ہو گیا؟“
یُوحنّا 20:9 UCV
والدین نے جَواب دیا، ”ہم جانتے ہیں کہ وہ ہمارا ہی بیٹا ہے اَور یہ بھی کہ وہ اَندھا ہی پیدا ہُوا تھا۔
یُوحنّا 21:9 UCV
لیکن اَب وہ کیسے بینا ہو گیا اَور کِس نے اُس کی آنکھیں کھولیں یہ ہم نہیں جانتے۔ تُم اُسی سے پُوچھ لو، وہ تو بالغ ہے۔“
یُوحنّا 22:9 UCV
اُس کے والدین نے یہ اِس لیٔے کہاتھا کہ یہُودی رہنما سے ڈرتے تھے کیونکہ یہُودیوں نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ جو کویٔی یِسوعؔ کو المسیح کی حیثیت سے قبُول کرےگا، اُسے یہُودی عبادت گاہ سے خارج کر دیا جائے گا۔
یُوحنّا 23:9 UCV
اِسی لیٔے اُس کے والدین نے کہا، ”وہ بالغ ہے، اُسی سے پُوچھ لو۔“
یُوحنّا 24:9 UCV
اُنہُوں نے اُس آدمی کو جو پہلے اَندھا تھا پھر سے بُلایا اَور کہا، ”سچ بول کر خُدا کو جلال دے، ہم جانتے ہیں کہ وہ آدمی گُنہگار ہے۔“
یُوحنّا 25:9 UCV
اُس نے جَواب دیا، ”وہ گُنہگار ہے یا نہیں، میں نہیں جانتا۔ ایک بات ضروُر جانتا ہُوں کہ میں پہلے اَندھا تھا لیکن اَب دیکھتا ہُوں!“
یُوحنّا 26:9 UCV
اُنہُوں نے اُس سے پُوچھا، ”اُس نے تیرے ساتھ کیا کیا؟ تیری آنکھیں کیسے کھولیں؟“
یُوحنّا 27:9 UCV
اُس نے جَواب دیا، ”میں تُمہیں پہلے ہی بتا چُکا ہُوں لیکن تُم نے سُنا نہیں۔ اَب وُہی بات پھر سے سُننا چاہتے ہو؟ کیا تُمہیں بھی اُس کے شاگرد بننے کا شوق چرّایا ہے؟“
یُوحنّا 28:9 UCV
تَب وہ اُسے بُرا بھلا کہنے لگے، ”تو اُس کا شاگرد ہوگا۔ ہم تو حضرت مَوشہ کے شاگرد ہیں!
یُوحنّا 29:9 UCV
ہم جانتے ہیں کہ خُدا نے حضرت مَوشہ سے کلام کیا لیکن جہاں تک اِس آدمی کا تعلّق ہے، ہم تُو یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ کہاں کا ہے۔“
یُوحنّا 30:9 UCV
اُس آدمی نے جَواب دیا، ”یہ بڑی عجِیب بات ہے! تُم نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا ہے حالانکہ اُس نے میری آنکھیں ٹھیک کر دی ہیں۔
یُوحنّا 31:9 UCV
سَب جانتے ہیں کہ خُدا گُنہگاروں کی نہیں سُنتا لیکن اگر کویٔی خُداپرست ہو اَور اُس کی مرضی پر چلے تو اُس کی ضروُر سُنتا ہے۔
یُوحنّا 32:9 UCV
زمانہ قدیم سے اَیسا کبھی سُننے میں نہیں آیا کہ کسی نے ایک پیدائشی اَندھے کو بینائی دی ہو۔
یُوحنّا 33:9 UCV
اگر یہ آدمی خُدا کی طرف سے نہ ہوتا تو کُچھ بھی نہیں کر سَکتا تھا۔“
یُوحنّا 34:9 UCV
یہ سُن کر اُنہُوں نے جَواب دیا، ”تُو جو سراسر گُناہ میں پیدا ہُوا؛ ہمیں کیا سِکھاتا ہے!“ یہ کہہ کر اُنہُوں نے اَندھے کو باہر نکال دیا۔
یُوحنّا 35:9 UCV
یِسوعؔ نے یہ سُنا کہ فریسیوں نے اُسے عبادت گاہ سے نکال دیا ہے۔ چنانچہ اُسے تلاش کرکے اُس سے پُوچھا، ”کیا تُو اِبن آدمؔ پر ایمان رکھتا ہے؟“
یُوحنّا 36:9 UCV
اُس نے پُوچھا، ”اَے آقا! وہ کون ہے؟ مُجھے بتائیے تاکہ میں اُس پر ایمان لاؤں۔“
یُوحنّا 37:9 UCV
یِسوعؔ نے فرمایا، ”تُونے اُنہیں دیکھاہے اَور حقیقت تو یہ ہے کہ جو اِس وقت تُجھ سے بات کر رہاہے، وُہی ہے۔“
یُوحنّا 38:9 UCV
تَب اُس آدمی نے کہا، ”اَے خُداوؔند، میں ایمان لاتا ہُوں،“ اَور اُس نے یِسوعؔ کو سَجدہ کیا۔
یُوحنّا 39:9 UCV
یِسوعؔ نے فرمایا، ”میں دُنیا کی عدالت کرنے آیا ہُوں تاکہ جو اَندھے ہیں دیکھنے لگیں اَورجو آنکھوں والے ہیں، اَندھے ہو جایٔیں۔“
یُوحنّا 40:9 UCV
بعض فرِیسی جو اُس کے ساتھ تھے یہ سُن کر پُوچھنے لگے، ”کیا کہا؟ کیا ہم بھی اَندھے ہیں؟“
یُوحنّا 41:9 UCV
یِسوعؔ نے فرمایا، ”اگر تُم اَندھے ہوتے تو اِتنے گُنہگار نہ سمجھے جاتے؛ لیکن اَب جَب کہ تُم کہتے ہو کہ ہماری آنکھیں ہیں، تو تمہارا گُناہ قائِم رہتاہے۔





