یُوحنّا 1:5, 2, 3, 4, 6, 7, 8, 9, 10, 11, 12, 13, 14, 15, 16, 17, 18
یُوحنّا 1:5 UCV
اِس کے بعد یِسوعؔ یہُودیوں کی ایک عید کے لیٔے یروشلیمؔ تشریف لے گیٔے۔
یُوحنّا 2:5 UCV
یروشلیمؔ میں بھیڑ دروازہ کے پاس ایک حوض ہے جو عِبرانی زبان میں بیت حَسدؔا کہلاتا ہے اَورجو پانچ برامدوں سے گھِرا ہُواہے۔
یُوحنّا 3:5 UCV
اِن برامدوں میں بہت سے اَندھے، لنگڑے اَور مفلُوج پڑے رہتے تھے، پڑے پڑے پانی کے ہلنے کا اِنتظار کرتے تھے۔
یُوحنّا 4:5 UCV
کہا جاتا تھا کہ خُداوؔند کا فرشتہ کسی وقت نیچے اُتر کر پانی ہلاتا اَور پانی کے ہلتے ہی جو کویٔی پہلے حوض میں اُتر جاتا تھا وہ تندرست ہو جاتا تھا خواہ وہ کسی بھی مرض کا شِکار ہو۔
یُوحنّا 6:5 UCV
جَب یِسوعؔ نے اُسے وہاں پڑا دیکھا اَور جان لیا کہ وہ ایک مُدّت سے اُسی حالت میں ہے تو یِسوعؔ نے اُس مفلُوج سے پُوچھا، ”کیا تو تندرست ہونا چاہتاہے؟“
یُوحنّا 7:5 UCV
اُس مفلُوج نے جَواب دیا، ”آقا، جَب پانی ہلایا جاتا ہے تو میرا کویٔی نہیں ہے جو حوض میں اُترنے کے لیٔے میری مدد کر سکے بَلکہ میرے حوض تک پہُنچتے پہُنچتے کویٔی اَور اُس میں اُتر جاتا ہے۔“
یُوحنّا 8:5 UCV
یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”اُٹھ اَور اَپنا بچھونا اُٹھا اَور چل، پھر۔“
یُوحنّا 9:5 UCV
وہ آدمی اُسی وقت تندرست ہو گیا اَور اَپنا بچھونا اُٹھاکر چلنے پھرنے لگا۔ یہ واقعہ سَبت کے دِن ہُوا تھا۔
یُوحنّا 10:5 UCV
یہُودی رہنما اُس آدمی سے جو تندرست ہو گیا تھا کہنے لگے، ”آج سَبت کا دِن ہے؛ اَور شَریعت کے مُطابق تیرا بچھونا اُٹھاکر چلنا روا نہیں۔“
یُوحنّا 11:5 UCV
اُس نے جَواب دیا، ”جِس آدمی نے مُجھے شفا بخشی اُن ہی نے مُجھے حُکم دیا تھا کہ ’اَپنا بچھونا اُٹھاکر چل پھر۔‘ “
یُوحنّا 12:5 UCV
اُنہُوں نے اُس مفلُوج سے پُوچھا، ”کون ہے وہ جِس نے تُجھے بچھونا اُٹھاکر چلنے پھرنے کا حُکم دیا ہے؟“
یُوحنّا 13:5 UCV
شفا پانے والے آدمی کو کچھ نہیں مَعلُوم تھا کہ اُسے حُکم دینے والا کون ہے کیونکہ یِسوعؔ لوگوں کے ہُجوم میں کہیں آگے نکل گیٔے تھے۔
یُوحنّا 14:5 UCV
بعد میں یِسوعؔ نے اُس آدمی کو بیت المُقدّس میں دیکھ کر اُس سے فرمایا، دیکھ، ”اَب تو تندرست ہو گیا ہے، گُناہ سے دُور رہنا ورنہ تُجھ پر اِس سے بھی بڑی آفت نہ آ جائے۔“
یُوحنّا 15:5 UCV
اُس نے جا کر یہُودی رہنماؤں کو بتایا کہ جِس نے مُجھے تندرست کیا وہ یِسوعؔ ہیں۔
یُوحنّا 16:5 UCV
یِسوعؔ اَیسے معجزے سَبت کے دِن بھی کرتے تھے اِس لیٔے یہُودی رہنما آپ کو ستانے لگے۔
یُوحنّا 17:5 UCV
یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”میرا باپ اَب تک اَپنا کام کر رہاہے اَور مَیں بھی کر رہا ہُوں۔“
یُوحنّا 18:5 UCV
اِس وجہ سے یہُودی رہنما یِسوعؔ کو قتل کرنے کی کوشش میں پہلے سے بھی زِیادہ سرگرم ہو گئے کیونکہ اُن کے نزدیک یِسوعؔ نہ صِرف سَبت کے حُکم کی خِلاف ورزی کرتے تھے بَلکہ خُدا کو اَپنا باپ کہہ کر پُکارتے تھے گویا وہ خُدا کے برابر تھے۔





