یُوحنّا 22:3, 23, 24, 25, 26, 27, 28, 29, 30, 31, 32, 33, 34, 35, 36
یُوحنّا 22:3 UCV
اِن باتوں کے بعد یِسوعؔ اَور اُن کے شاگرد یہُودیؔہ کے علاقہ میں گیٔے، اَور وہاں رہ کر لوگوں کو پاک غُسل دینے لگے۔
یُوحنّا 23:3 UCV
حضرت یُوحنّا بھی عینونؔ میں پاک غُسل دیتے تھے جو شالیِؔم کے نزدیک تھا۔ وجہ یہ تھی کہ وہاں پانی بہت تھا، اَور لوگ پاک غُسل لینے کے لیٔے آتے رہتے تھے۔
یُوحنّا 24:3 UCV
(یہ حضرت یُوحنّا کے قَیدخانہ میں ڈالے جانے کے پہلے کی بات ہے۔)
یُوحنّا 25:3 UCV
حضرت یُوحنّا کے شاگردوں کی ایک یہُودی سے اُس رسمِ طہارت کے بارے میں جو پانی سے اَنجام دی جاتی تھی، بحث شروع ہویٔی۔
یُوحنّا 26:3 UCV
اِس لیٔے وہ حضرت یُوحنّا کے پاس آکر کہنے لگے، ”اَے ربّی وہ شخص جو دریائے یردنؔ کے اُس پار آپ کے ساتھ تھا اَور جِن کے بارے میں آپ نے گواہی دی تھی، وہ بھی پاک غُسل دیتے ہیں اَور سَب لوگ اُن ہی کے پاس جاتے ہیں۔“
یُوحنّا 27:3 UCV
حضرت یُوحنّا نے جَواب دیا، ”اِنسان کُچھ نہیں حاصل کر سَکتا جَب تک کہ اُسے آسمانی خُدا کی طرف سے نہ دیا جائے۔
یُوحنّا 28:3 UCV
تُم خُود گواہ ہو کہ مَیں نے کہاتھا کہ، ’میں المسیح نہیں بَلکہ اُن سے پہلے بھیجا گیا ہُوں۔‘
یُوحنّا 29:3 UCV
دُلہن تو دُلہا کی ہوتی ہی ہے مگر دُلہے کا دوست جو دُلہا کی خدمت میں ہوتاہے، دُلہا کی ہر بات پر کان لگائے رکھتا ہے اَور اُس کی آواز سُن کر خُوش ہوتاہے۔ پس اَب میری یہ خُوشی پُوری ہو گئی۔
یُوحنّا 31:3 UCV
جو اُوپر سے آتا ہے وہ سَب سے اُونچا ہوتاہے؛ جو شخص زمین سے ہے زمینی ہے، اَور زمین کی باتیں کرتا ہے۔ مگر جو آسمان سے آتا ہے وہ سَب سے اُونچا ہوتاہے۔
یُوحنّا 32:3 UCV
اُنہُوں نے جو کُچھ خُود دیکھا اَور سُنا ہے اُسی کی گواہی دیتے ہیں۔ لیکن اُن کی گواہی کویٔی بھی نہیں قبُول کرتا۔
یُوحنّا 33:3 UCV
لیکن جِس نے اُن کی گواہی کو قبُول کیا ہے وہ تصدیق کرتا ہے کہ خُدا سچّا ہے۔
یُوحنّا 34:3 UCV
کیونکہ جسے خُدا نے بھیجا ہے وہ خُدا کی باتیں کہتاہے، اِس لیٔے کہ خُدا بغیر حِساب کے پاک رُوح دیتاہے۔
یُوحنّا 35:3 UCV
باپ بیٹے سے مَحَبّت رکھتا ہے اَور باپ نے سَب کُچھ بیٹے کے حوالہ کر دیا ہے۔
یُوحنّا 36:3 UCV
جو کویٔی بیٹے پر ایمان لاتا ہے وہ اَبدی زندگی پاتاہے، لیکن جو کویٔی بیٹے کو ردّ کرتا ہے وہ زندگی سے محروم ہوکر، خُدا کے غضب میں مُبتلا رہتاہے۔





