یُوحنّا 1:3, 2, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 10, 11, 12, 13, 14, 15, 16, 17, 18, 19, 20, 21
یُوحنّا 1:3 UCV
فریسیوں میں ایک آدمی تھا جِس کا نام نِیکُودِیمُسؔ تھا جو یہُودیوں کی عدالتِ عالیہ کا رُکن تھا۔
یُوحنّا 2:3 UCV
ایک رات وہ یِسوعؔ کے پاس آکر کہنے لگا، ”اَے ربّی، ہم جانتے ہیں کہ خُدا نے آپ کو اُستاد بنا کر بھیجا ہے کیونکہ جو معجزے آپ دِکھانے ہیں، کویٔی نہیں دِکھا سَکتا جَب تک کہ خُدا اُس کے ساتھ نہ ہو۔“
یُوحنّا 4:3 UCV
نِیکُودِیمُسؔ نے پُوچھا، ”اگر کویٔی آدمی بُوڑھا ہو تو وہ کِس طرح دوبارہ پیدا ہو سَکتا ہے؟ یہ ممکن نہیں کہ وہ پھر سے اَپنی ماں کے پیٹ میں داخل ہوکر پیدا ہو۔“
یُوحنّا 5:3 UCV
یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”مَیں تُجھ سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ جَب تک کویٔی شخص پانی اَور رُوح سے پیدا نہ ہو، وہ خُدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سَکتا۔
یُوحنّا 6:3 UCV
بشر سے تو بشر ہی پیدا ہوتاہے مگر جو رُوح سے پیدا ہوتاہے وہ رُوح ہے۔
یُوحنّا 7:3 UCV
تعجُّب نہ کر مَیں نے تُجھ سے فرمایا، ’تُم سَب کو نئے سِرے سے پیدا ہونا لازمی ہے۔‘
یُوحنّا 8:3 UCV
ہَواجِدھر چلنا چاہتی ہے چلتی ہے۔ تُم اُس کی آواز تو سُنتے ہو، مگر یہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں سے آتی ہے اَور کہاں جاتی ہے۔ پس رُوح سے پیدا ہونے والے ہر آدمی کا حال بھی اَیسا ہی ہے۔“
یُوحنّا 9:3 UCV
نِیکُودِیمُسؔ نے پُوچھا، ”یہ کیسے ممکن ہو سَکتا ہے؟“
یُوحنّا 10:3 UCV
یِسوعؔ نے فرمایا، ”تُم تو بنی اِسرائیل میں اُستاد کا درجہ رکھتے ہو، پھر بھی یہ باتیں نہیں سمجھتے؟
یُوحنّا 11:3 UCV
مَیں تُجھ سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ ہم جو جانتے ہیں وُہی کہتے ہیں اَور جسے دیکھ چُکے ہیں اُسی کی گواہی دیتے ہیں۔ پھر بھی تُم لوگ ہماری گواہی کو نہیں مانتے۔
یُوحنّا 12:3 UCV
مَیں نے تُم سے زمین کی باتیں کہیں اَور تُم نے یقین نہ کیا تو اگر مَیں تُم سے آسمان کی باتیں کہُوں تو تُم کیسے یقین کروگے؟
یُوحنّا 13:3 UCV
کویٔی اِنسان آسمان پر نہیں گیا سِوائے اُس کے جو آسمان سے آیا یعنی اِبن آدمؔ۔
یُوحنّا 14:3 UCV
جِس طرح حضرت مَوشہ نے بیابان میں پیتل کے سانپ کو لکڑی پر لٹکا کر اُونچا اُٹھایا اُسی طرح ضروُری ہے کہ اِبن آدمؔ بھی بُلند کیا جائے۔
یُوحنّا 15:3 UCV
تاکہ جو کویٔی اُن پر ایمان لایٔے اَبدی زندگی پایٔے۔“
یُوحنّا 16:3 UCV
کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اِس قدر مَحَبّت کی کہ اَپنا اِکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کویٔی بیٹے پر ایمان لایٔے ہلاک نہ ہو بَلکہ اَبدی زندگی پایٔے۔
یُوحنّا 17:3 UCV
کیونکہ خُدا نے بیٹے کو دُنیا میں اِس لیٔے نہیں بھیجا کہ دُنیا کو سزا کا حُکم سُنائے بَلکہ اِس لیٔے کہ دُنیا کو بیٹے کے وسیلہ سے نَجات بخشے۔
یُوحنّا 18:3 UCV
جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے اُس پر سزا کا حُکم نہیں ہوتا لیکن جو بیٹے پر ایمان نہیں لاتا اُس پر پہلے ہی سزا کا حُکم ہو چُکاہے کیونکہ وہ خُدا کے اِکلوتے بیٹے کے نام پر ایمان نہیں لایا۔
یُوحنّا 19:3 UCV
اَور سزا کے حُکم کا سبب یہ ہے کہ نُور دُنیا میں آیا ہے مگر لوگوں نے نُور کی بجائے تاریکی کو پسند کیا کیونکہ اُن کے کام بُرے تھے۔
یُوحنّا 20:3 UCV
جو کویٔی بُرے کام کرتا ہے وہ نُور سے نفرت کرتا ہے اَور نُور کے پاس نہیں آتا۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ اُس کے بُرے کام ظاہر ہو جایٔیں۔
یُوحنّا 21:3 UCV
لیکن جِس کی زندگی سچّائی کے لیٔے وقف ہے وہ نُور کے پاس آتا ہے تاکہ ظاہر ہو کہ اُس کا ہر کام خُدا کی مرضی کے مُطابق اَنجام پایا ہُواہے۔





